Tahaffuzedeen Media Services India

Article7

غیرمقلدین پر امام حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله کا رد

جہاں تک آج کل کے غیرمقلدین کا تعلق ہے توحقیقت میں تو ان میں کوئی بهی غیرمقلد نہیں ہے بلکہ سب مقلد ہیں آج کل کے چند جہلاء کی تقلید کرتے ہیں جن کو شیخ کا لقب دیا ہوا ہے جوبهی مذہب حنفی یا امام اعظم یا کسی اورحنفی عالم کے خلاف کچھ واہیات بولتا ہے یا لکهتا ہے تو وه ان کے نزدیک شیخ بن جاتا ہے، فوا اسفاه
یقینا جوحضرات حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله سے اوران کی سیرت سے واقف ہیں ان کو اس مذکوره بالا عنوان سے تهوڑا تعجب ہوگا کیونکہ حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله ساتویں صدی ہجری کے آدمی ہیں اور غیرمقلدین کا فرقہ تو ہندوستان میں انگریزی دور میں معرض وجود میں آیا ؟؟
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله نے ایک مستقل انتہائی لطیف ومفید رسالہ لکھ کرغیرمقلدین پر رد کیا ہے، اس رسالہ کا نام ہے؛

الرد علی من اتبع غیر المذاہب الاربعہ

یعنی ان لوگوں پر رد جو مذاہب اربعہ (حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ) کے علاوه کسی اورکی اتباع کرتے ہیں۔
یقینا یہ بات صحیح ہے کہ حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله کی رد خاص طور پر موجوده فرقہ غیرمقلدین کے لئے تو نہیں ہے کیونکہ یہ فرقہ ان کے زمانے کے بہت بعد پیدا ہوا ہے لیکن عمومی طور یہ فرقہ غیرمُقلدین بهی اس رد میں شامل ہے کیونکہ اس فرقہ کے ہَمنوا بهی مذاہب اربعہ اورخصوصا مذہب حنفی کو مخالف قرآن وسنت گردانتے رہتے ہیں ، اور لوگوں کو مختلف وساوس واوہام کے ذریعہ سے مذاہب اربعہ اورخصوصا مذهب حنفی سے متنفرکرتے ہیں اوران کی اتباع وتقلید سے منع کرتے ہیں اوراس کوشرک وبدعت وغیره کے القابات سے یاد کرتے ہیں ، لہذا حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله کی رد میں فرقہ غیرمُقلدین بطریق اولی داخل وشامل ہے ، اوردوسری اہم بات یہ ہے کہ حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ آج سے سینکڑوں سال قبل یعنی ساتویں صدی ہجری میں مستقل رسالہ لکھ کرامت مسلمہ کو خبردار کر رہے کہ یاد رکهو اب دین کے معاملہ میں راہنمائی مذاهب اربعہ ( حنفی ، شافعی ، مالکی حنبلی ) سے حاصل کی جائے گی ان کے علاوه کسی اور کی طرف رجوع صحیح نہیں ہے الا یہ کہ کوئی شخص درجہ ومرتبہ میں ائمہ اربعہ کے ہم پلہ ہوجائے توپهراس کے لیئے مذاہب اربعہ سے خروج جائز ہے ، اور یقینا اجتہاد واستنباط کی یہ صلاحیت ایک طویل زمانہ سے مفقود ہے لہذا مذاہب اربعہ کی طرف رجوع کے بغیر کوئ چاره نہیں ہے ، یاد رہے کہحافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله مذهب حنبلی کے کبار ومستند ومُتبحر علماء میں سے ہیں اورشیخ الاسلام ابن تيمية اورابن القیم رحمهما الله کے خصوصی شاگردوں میں سے ہیں ، اورعلماء اسلام نے ان کو الشيخ العلامة الإمام الحافظ الحجة المحدث الفقيه الواعظ وغیره کے عظیم القابات سے یاد کیا ہے ، مثلا چند علماء کی عبارات درج ذیل ہیں

  1. وقال الشهاب ابن حجّي أتقن في الحديث وصار أعرف أهل عصره بالعلل وتتبع الطرق تخرّج به غالب اصحابنا الحنابلہ
  2. وقال ابن مفلح الشيخ العلامة الحافظ الزاهد شيخ الحنابلہ
  3. ونعته ابن حجر بالمحدث الحافظ وقال: مهر في فنون الحديث أسماء ورجالاً وعللاً وطرقاً واطلاعاً على معانية، وكان صاحب عبادة وتہجد
  4. قال أبو المحاسن الدمشقي الإمام الحافظ الحجة والفقيه العمدة أحد العلماء الزهاد والأئمة العباد مفيد المحدثين واعظ المسلمين

  5. قال ابن العماد الحنبلي الإمام العالم العلامة الزاهد القدوة البركة الحافظ العمدة الثقة الحجة الحنبلي
  6. قال الحافظ ابن حجر في انباء الغمر بأبناء العمر رافق شيخنا زين الدين العراقي في السماع كثيراً ومهر في فنون الحديث أسماء ورجالاً وعللاً وطرقاً واطلاعاً لى معانيه
  7. قال الحافظ السيوطي هوالإمام الحافظ المحدث الفقيه الواعظ

حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله کی مدح وتعریف میں یہ چند عبارات میں نے اس لیئے نقل کی ہیں تاکہ کوئ جاہل شخص یہ نہ کہے ابن رجب الحنبلی توایک عام آدمی تهے ان کے تبصره وتحریر ورائی کا کوئی اعتبارنہیں ہے، جیسا کہ اوپرمذکورہوا کہ حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله نے یہ رسالہ

الرد علی من اتبع غیر المذاہب الاربعہ

ان لوگوں کی رد وتردید میں لکها ہے جو فروعی واجتہادی مسائل میں مذاہب اربعہ (حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ) کے علاوه کسی اور کی اتباع کرتے ہیں ، اورپهر جولوگ صرف یہی نہیں کہ مذاہب اربعہ کی اتباع نہیں کرتے بلکہ ساتھ ہی دن رات ان پرلعن طعن بهی کرتے ہیں توایسے لوگ کتنے خطرے ونقصان میں ہیں وه بالکل واضح ہے ، میری بات طویل ہوگئی میں اصل میں کچھ اقتباسات حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله کے اس رسالہ سے نقل کرکے بات ختم کرتا ہوں۔ یاد رہے کہ اس رسالہ شریفہ میں ابن رجب الحنبلی رحمہ الله نے دواہم فیصلے سنائے ہیں:

  1. اگرلوگوں کو معدود ومشہورائمہ یعنی ائمہ اربعہ کے اقوال پرجمع نہ کیا جائے تو دین میں فساد واقع ہوجائے گا
  2. ہرأحمق بے وقوف وجاہل اپنے آپ کو مُجتهدین کے زمره میں شمارکرے گا
  3. کبهی کوئ جهوٹا قول کوئ بات مُتقدمین سلف کی طرف منسوب کیا جائے گا
  4. اورکبهی کوئ تحريف کرکے ان کی طرف منسوب کیا جائے گا ، اورکبهی یہ قول بعض سلف کی خطاء ولغزش ہوگی جس کے ترک کرنے اورچهوڑنے پر مسلمانوں کی ایک جماعت کا اجتماع ہوگا۔
  5. لہذا مصلحت کا تقاضا وہی ہے جو الله تعالی کی قضاء وقدر میں مقررہوچکا ہے یعنی لوگوں کو مشهورائمہ ( یعنی ائمہ اربعہ ) رضی الله عنہم اجمعين کے مذاہب پرجمع کیا جائے۔

ابن رجب الحنبلی رحمہ الله ایک اعتراض نقل کرتے ہیں وه یہ کہ ممکن ہے کہ حق ائمہ اربعہ کے أقوال سے خارج ہو ؟؟
ابن رجب الحنبلی رحمہ الله نے اس شبہ کے واقع ہونے کا انکارکیا ہے کہ حق ائمہ اربعہ کے اقوال سے خارج ہوکیونکہ لأن الأمة لا تجتمع على ضلالة ، امت مسلمہ کبهی گمراہی پرجمع نہیں ہوسکتی الخ

سوال : صرف ائمہ اربعہ کی اتباع کیوں لازمی اورضروری ہے ؟؟
جواب = حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالی كى حكمت ہے كہ اس كے دين كى حفاظت و ضبط اس طرح ہوئى كہ لوگوں كے ليے آئمہ كرام كھڑے كيے جن كاعلم و فضل اور درايت احكام وفتوى ميں انتہائى درجہ كو پہنچا ہوا ہے وہ آئمہ اہل رائے ميں بھى ہوئے اور اہل حديث یعنی محدثین ميں بھى، اس طرح سب لوگ ان كے فتاوى پر چلنے لگے اور احكام معلوم كرنے كے ليے ان آئمہ كرام كى طرف رجوع كرتے ہيں اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى نے ايسے افراد پيدا كيے جنہوں نے ان كے مذاہب كواحاطہ تحريرميں لايا اور ان كے قواعد لكھے حتى كہ ہر ايک امام كا مسلک اور اس كے اصول و قواعد اور فصول مقرر كرديےكہ احكام معلوم ہوں اورحلال وحرام كے مسائل معلوم وضبط كيے جاسكيں يہ اللہ تعالى كى اپنے بندوں پر مہربانى و رحمت تھى اور اس دين كى حفاظت ميں ايک اچھا احسان تھا، اگر يہ نہ ہوتا تو لوگ ہراحمق كى جانب سےعجيب وغريب اشياء ديكھتے جو بڑى جرات كے ساتھہ اپنى احمقانہ رائے لوگوں كے سامنے بيان كرتا پھرتا، اور اس رائے پرفخربھى كرتا، اور امت كے امام ہونے كا دعوى كر ديتا، اور يہ باور كراتا كہ وہ اس امت كا راہنما ہے، اور لوگوں كى اسى كى طرف رجوع كرنا چاہيے، كسى اور كى جانب نہيں ليكن اللہ كا فضل اور اس كا احسان ہے كہ اس نے اس خطرناک دروازے كو بند كر ديا، اور ان عظيم خرابيوں كو جڑ سے كاٹ پھينكا، اور يہ بھى اللہ كى اپنے بندوں پر مہربانى ہے لیكن اس كے باوجود ايسے افراد اب تک ظاہر ہوتے اور سامنے آتے رہتے ہيں جو اجتھاد كے درجہ تک پہنچنے كا دعوى كرتے، اور ان آئمہ اربعہ كى تقليد كيے بغير علم ميں باتيں كرتے ہيں، اور باقى سارے لوگ جو اس درجہ تک نہيں پہنچے انہيں ان چاروں كى تقليد كيے بغير كوئى چارہ نہيں، بلكہ جہاں سارى امت داخل ہوئى ہے انہيں بھى داخل ہونا ہوگا. انتہىٰ۔

الرد على من اتبع غير المذاہب الاربعۃ: فاقتضت حكمة الله سبحانه أن ضبط الدين وحفظه بأن نصب للناس أئمة مجتمعاً على علمهم ودرايتهم وبلوغهم الغاية المقصودة في مرتبة العلم بالأحكام والفتوى من أهل الرأي والحديث فصار الناس كلهم يعولون في الفتاوى عليهم ويرجعون في معرفة الأحكام إليهم وأقام الله من يضبط مذاهبهم ويحڑ قواعدهم ، حتى ضبط مذهب كل إمام منهم وأصوله وقواعده وفصوله حتى ترد إلى ذلك الأحكام ويضبط الكلام في مسائل الحلال والحرام وكان ذلك من لطف الله بعباده المؤمنين ومن جملة عوائده الحسنة في حفظ هذا الدين ولولا ذلك لرأى الناس العجاب مِن كل أحمق متكلف معجبٍ برأيه جريءعلى الناس وثَّاب فيدعي هذا أنه إمام الأئمة ويدعي هذا أنه هادي الأمة وأنه هوالذي ينبغي الرجوع دون الناس إليه والتعويل دون الخلق عليه ولكن بحمد الله ومنته انسد هذا الباب الذي خطره عظيم وأمره جسيم وانحسرت هذه المفاسد العظيمة وكان ذلك من لطف الله تعالى لعباده وجميل عوائده وعواطفه الحميمة ومع هذا فلم يزل يظهر من يدعي بلوغ درجة الاجتهاد ويتكلم في العلم من غير تقليدٍ لأحد من هؤلاء الأئمة ولا انقياد فمنهم من يسوغ له ذلك لظهور صدقه فيما ادعاه ومنهم من رد عليه قوله وكذب في دعواه وأما سائر الناس ممن لم يصل إلى هذه الدرجة فلا يسعه إلا تقليد أولئك الأئمة والدخول فيما دخل فيه سائر الأمة ” انتهى۔

سبحان الله حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله کی اس تبصرے کا ایک ایک لفظ مبنی برحقیقت اورکهلا اور واضح پیغام حق ہے اور مذاهب ائمہ اربعہ سے بغاوت کی صورت میں جن خدشات وخطرات کے واقع ہونے کی طرف ابن رجب رحمه الله نے اشاره کیا ہے آج کے دور میں ہم اس کا مشاهده کر رہے ہیں۔
حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله ایک اورسوال نقل کرتے ہیں اورخود ہی اس کا جواب دیتے ہیں۔
سوال: اگر يہ كہا جائے کہ امام احمد رحمه الله وغيرہ نے جو اپنى كتاب اور كلام ميں تقليد كرنے سے منع كيا ہے اس كے متعلق آپ كيا كہتے ہيں ؟؟ اور پھر امام احمد رحمہ اللہ كا قول ہے ميرا اور فلان اور فلان كا كلام مت لكھو، بلكہ جس طرح ہم نے سيكھا ہے اور تعليم حاصل كى ہے اس طرح تم بھى تعليم حاصل كرو آئمہ كى كلام ميں يہ بہت موجود ہے ؟؟
جواب: اس كے جواب ميں كہا جائيگا كہ بلاشک و شبہ امام احمد رحمہ اللہ فقہاء كى آراء لكھنے اور حفظ كرنے ميں مشغول ہونے سے منع كيا كرتے تھے بلكہ كہتے كہ كتاب و سنت كى فہم اور تعليم و تدريس اور حفظ ميں مشغول ہوا جائے اور صحابہ كرام اور تابعين عظام كے آثار لكھا كريں ان كے بعد والوں كى نہيں اور اس ميں سے صحيح اور ضعيف شاذ و مطروح قول كو معلوم كريں بلاشک اس يہ سے تعين ہو جاتا ہے كہ كتاب و سنت كى تعليم كا اہتمام كرنا كسى دوسرے كام ميں مشغول ہونے سے بہتر ہے بلكہ پہلے اس كى تعليم حاصل كى جائے.لہذا جو يہ جان لے اور اس كى معرفت كى انتہاء تک پہنچ جائے جيسا كہ امام احمد رحمه الله نے اشارہ كيا ہے تو اس كا علم تقريبا امام احمد رحمه الله كے قريب ہو گيا تو اس پر كوئى روک ٹوک نہيں ہے اور نہ ہى اس كے متعلق كلام كى جا رہى ہے، بلكہ كلام تو اس شخص كے متعلق ہے جو اس درجہ تک نہيں پہنچا اور نہ ہى وہ اس كى انتہاء كو پہنچا ہے اور نہ اس نے كوئ سمجھا ہے ہاں تهوڑا ساعلم ضرور ہے جيسا كہ اس دور كے لوگوں كى حالت ہے بلكہ كئى زمانوں سے اكثر لوگوں كا يہى حال ہے وہ انتہاء درجہ تک پہنچنے اورغايت كو پانے كا دعوى كرتے ہيں حالانكہ وہ تو ابتدائى درجات تک بھى نہيں پہنچ سكے۔

فإن قيل : فما تقولون في نهي الإمام أحمد وغيره من الأئمة عن تقليدهم وكتابة كلامهم ، وقول الإمام أحمد : لا تكتب كلامي ولا كلام فلان وفلان ، وتعلم كما تعلمنا . وهذا كثير موجود في كلامهم ؟
قيل : لا ريب أن الإمام أحمد رضي الله عنه كان ينهى عن آراء الفقهاء والاشتغال بها حفظاً وكتابة ويأمر بالاشتغال بالكتاب والسنة حفظاً وفهماً وكتابة ودراسة وبكتابة آثار الصحابة والتابعين دون كلام مَن بعدهم ومعرفة صحة ذلك من سقمه والمأخوذ منه والقول الشاذ المطرح منه ولا ريب أن هذا مما يتعين الاهتمام به والاشتغال بتعلمه أولاً قبل غيره فمن عرف ذلك وبلغ النهاية من معرفته كما أشار إليه الإمام أحمد فقد صارعلمه قريباً من علم أحمد فهذا لا حجرعليه ولا يتوجه الكلام فيه إنما الكلام في منع من لم يبلغ هذه الغاية ولا ارتقى إلى هذه النهاية ولا فهم من هذا إلا النزر اليسير كما هو حال أهل هذا الزمان بل هو حال أكثر الناس منذ أزمان مع دعوى كثير منهم الوصول إلى الغايات والانتهاء إلى النهايات وأكثرهم لم يرتقوا عن درجة البدايات ” انتهى۔ الرد على من اتبع غير المذاہب الاربعۃ۔

الله تعالی کی بے شمار رحمتیں نازل ہوں تمام ائمہ وعلماء اہل سنت پر کہ ہر مسئلہ میں ہر پہلو اور ہرمیدان میں ہماری راہنمائی فرمائی اورتمام فتنوں سے ہمیں پہلے ہی آگاه وخبرادار کیا ، حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله کا مبنی برصدق وحق کلام وتبصره آپ نے پڑھ لیا ، یقینا اس کلام میں ہم سب کے لئے اورخصوصا ان نادان لوگوں کے لئے بڑی عبرت ونصیحت ہے جنہوں نے دین کے معاملہ ائمہ حق وہدی ائمہ اربعہ کی اتباع چهوڑ کر آج کل کے چند جاہل لوگوں کی اورنفس وشیطان کی اتباع کا طوق اپنے گلے میں ڈال دیا ہے۔
هدانا الله وایاهم الی السواء السبیل

فرقہ جدید نام نہاد اهل حدیث اور تقلید

عوام الناس کے سامنے تو اس فرقہ جدید کے علمبردار بڑے زور وشور سے تقلید ائمہ کی مذمت کرتے ہیں ، اوراس کوشرک وبدعت وضلالت گردانتے هیں ،
اورهمارے عُرف میں اس فرقہ جدید کا نام تو غیرمُقلد مشہور هوگیا لیکن درحقیقت یہ بهی مُقلد هیں اور سب سے بڑے مُقلد هیں ، اس فرقہ جدید میں شامل جولوگ ہیں بس انهیں کی اوهام ووساوس کو ہانکتے رہتے ہیں ،
یاد رہے کہ تقلید سے کسی کو کوئ مَفرنہیں ہے حتی کہ یہ لوگ ایک طرف تو دین میں ائمہ کی تقلید کوحرام گردانتے ہیں ، لیکن خود اسی تقلید میں مُبتلا نظرآتے ہیں ، کیونکہ ان کومعلوم ہے کہ تقلید کے بغیرکوئ چاره نہیں ہے ،
لیکن سوال یہ ہے کہ پهر عوام کے سامنے اس فرقہ جدید کے علمبردار تقلید کوشرک وبدعت وضلالت کیوں کہتے ہیں ؟؟
اس کا واضح جواب یہ ہے کہ عوام کواگر پوری حقیقت بتلادیں تو پهر تو اہل حق کے خلاف پروپیگنڈه کا سارا سلسلہ بند هوجائے ، اوراگرعوام کو صحیح مسئلہ بتائیں تواس فرقہ جدید کی ساری تحریک ہی ختم ہوجائے ،
اس فرقہ جدید کا دعوی ہے کہ دین میں ائمہ کی تقلید ناجائز وحرام وبدعت ہے ،
اس لیئے مثلا جواہل اسلام امام ابوحنیفہ کی اجتہادی وفروعی مسائل میں تقلید کرتے ہیں ، ان کواس فرقہ جدید کی طرف سے کبهی مُشرک وبدعتی کا خطاب دیا جاتا ہے ، کبهی احبار ورُهبان واکابر کا پجاری کہا جاتا ہے ، کبهی تقلید کا مریض کبهی تقلیدی امت وغیره القابات سے پکارا جاتا ہے ، اور یہ سب کچهہ تقلید ائمہ کی وجہ سے کہاجاتا ہے ، اب جو فرقہ دوسروں کو تقلید کی وجہ سے اس درجہ شدید الفاظ سے پکارتا ہے ، وه فرقہ خود بهی تمام مسائل میں تقلید ہی کرتا ہے ، لیکن اپنی تقلید کو وه تقلید نہیں کہتے ، اب اس طرز کوکیا کہاجائے جہالت وحماقت یا عداوت ومنافقت وشرارت ؟؟
فرقہ جدید کا دعوی ہے کہ دین میں ائمہ کی اجتہادات کی تقلید ناجائز وحرام وبدعت ہے ، اب یہ فرقہ جدید اپنے اس اصول پرقائم نہیں ہے ،
میں اس ضمن میں ایک مثال عرض کرتا ہوں ،
مُحدثین کرام نے محض اپنی اجتہادات سے ” حدیث ” کے مختلف اقسام ذکر کیئے ہیں ، اور آج تک انهیں کی تقلید میں بلا چوں وچرا ” حدیث ” کے ان اقسام کو اس فرقہ جدید سمیت تمام اهل اسلام استعمال کرتے ہیں ، مثلا

{{ المتواتر ، متواتر لفظي، ومتواتر معنوي.
المشهور، المستفيض ، الخبرالواحد ،العزيز ، التابع ، الشاهد ، الاعتبار ، الشاذ ، المحفوظ ، المنكر ، الغريب ، المعروف ، المضطرب ، المقلوب ، المدرج ، مدرج المتن، ومدرج الإسناد ، المصحَّف ، تصحيف السمع ، تصحيف البصر ، المعلل ، المعل في السند ، المعل في المتن ، المعل في السند والمتن ، المنقطع ، المرسل ، المعلق ، المعضل ، المدلس ، تدليسالإسناد ، تدليس الشيوخ ، المرسل الخفي ، المتصل ،المسند ، المعنعن ، المؤنئن ، المسلسل ، العالي ، النازل ، المزيد في متصل الأسانيد،الصحيح لذاته، الصحيح لغيره ، الحسن لذاته ،الحسن لغيره ، الضعيف ، الخ }}

یہ چند اقسام میں نے بطور مثال ذکرکیئے جس کو محدثین کرام متن وسند ، رُوَاة الحدیث ، ومراتب حدیث ، وغیره کے اعتبارسے استعمال کرتے هیں ، اور یہ تمام اقسام واسماء واصطلاحات خالص اجتہادی ہیں ، محدثین کرام کے اجتہادات کا ثمره ہیں ، اسی لیئے اس باب میں محدثین کرام کے مابین اختلاف بهی پایا جاتا ہے جس کی تفصیل ” اصُول حدیث ” کی کتب میں موجود ہے ،
ایسا ہی ” جرح وتعدیل ” کے باب میں مُحدثین کرام نے اپنے اپنے ظن واجتہاد سے مختلف مراتب واصطلاحات مُقر رکیئے ہیں ، اور آج تک انهیں کی تقلید میں بلا چوں وچرا ان اصطلاحات کو اس فرقہ جدید سمیت تمام اهل اسلام استعمال کرتے ہیں ، مثلا

{{ ثقة ، متقن ، ثبت ، جَيِّد الحَديثِ ، صدوق ، لا بأس به ، ليس به بأس ، حسن الحديث ، مقارب الحديث ، وَسَطٌ ، شيخ ، محدث ، صالح الحديث ، صويلح ، ملحه الصدق ، لَيِّنُ الحديث ، ليس بالحافِظ ، معروف ، يُكْتَبُ حديثُهُ ، يُعْتَبَرُ به ، لا يحتجُّ به ، ليس بذاك ، ليس بالقوي ، إلى الضَّعفِ ماهو ، تَعْرِفُ وَتُنْكِرُ ، سيء الحفظ ، فيه نظر ، ضعيف ، مضطرب الحديث ، يُخالِفَ الثِّقات ، لا يتابع على حَديثه ، روى مناكير أو روى أحاديث منكرة ، منكر الحديث ، روى أحاديث معضلة أويروي المعضلات ، أستخيرُ اللهَ فيه ، ليس بشيء ، لاشيء ، لايعتبرُ به ، ليس بثقة ، متروك الحديث ، تركه فلان ، لمْ يحدث عنه فلان ، سكتوا عنه ، کذاب ، دجال ، واه ،ذاهب الحديث ، متهم بالكذب حديثه يهوي ، الخ

جرح وتعدیل کے چند اجتہادی اسماء واصطلاحات میں نے ذکرکیئے آج پوری امت حدیث کے باب میں اسی کی تقلید کرتی ہے ، جرح وتعدیل کے یہ اقسام بهی خالص اجتہادی ہیں ہر مُحدث کی اس باب میں اپنا ذوق واجتہاد ہے ،
اب سوال یہ ہے کہ مُحدثین کے اس ذوق واجتہاد کی تقلید جائز ہے اور فقہاء کرام کی اجتہادات کی تقلید کیوں ناجائز وحرام ہے ؟؟
کیا فرقہ جدید اهل حدیث نے اپنے لیئے ” حدیث ” کے باب میں اپنے اجتہادی اقسام واسماء متعین کیئے ہیں یا گذشتہ مُحدثین کے مُتعین کرده اقسام واسماء کو ہی تقلیدا استعمال کرتے ہیں ؟؟ جواب ظاہر ہے کہ فرقہ جدید اهل حدیث بهی محدثین کی تقلید میں ” حدیث ” کے اقسام واسماء صحیح ، حسن ، ضعیف ، وغریب وغیره استعمال کرتے ہیں ، یہی حال جرح وتعدیل ورجال وغیره میں ہے ، یہ بهی یاد رہے کہ اصول حدیث وعلوم حدیث وجرح وتعدیل ورجال کی تمام کتب بهی مُقلدین کی لکهی ہوئ ہیں مثلا حافظ ذهبی ، حافظ ابن حجر ، خطیب بغدادی ، حافظ نووی ، حافظ ابن الصلاح ، حافظ العراقی ، وغیرهم سب مُقلد ہیں ،
اب اس طرز وروش کو کہا جائے ایک طرف یہ دعوی کہ تقلید ناجائز وحرام وشرک دوسری طرف حدیث کے باب میں وہی تقلید جائزولازم بن جائے ، اور پهر وه تقلید بهی مُقلدین کے کتب کی کیونکہ اس باب تمام کتب مُقلدین علماء کی ہیں ، تو یہ دوہرا جرم ہوگیا فرقہ اهل حدیث کا کہ تقلید کرتے ہیں اور وه بهی مقلدین کی ۰ الله تعالی صحیح سمجهہ عطا فرمائے ٠
اوریہ بهی یاد رہے کہ ” جرح وتعدیل ” کے مستند ائمہ میں سے يحي بن سعيد ألقطان اور يحي بن مُعين رحمہما الله بهی ہیں ، اور دونوں حنفي المسلك ہیں ،
” جرح وتعدیل ” کے ایک دوسرے امام حافظ ذهبي رحمہ الله اپنی کتاب
{ “الرواة الثقات ‏المتكلم فيهم بما لا يوجب” (1\30):} میں فرماتے ہیں کہ

ان ابن معين كان من الحنفيّةِ الغُلاة في مذهبه ۰

بے شک يحي بن مُعين حنفیہ میں سے تهے اور مذهب حنفی میں غالی ( پکے اورسخت ) تهے ۰
حافظ ذهبی رحمہ الله کے الفاظ پرغور کریں ” مـن الحَـنـفِـيّـةِ الـغُــلاة ” ایسے غالی اورپکے حنفی کا مرتبہ ومقام بهی مُلاحظہ کریں ، محدثین لکهتے ہیں کہ
{ كل حديث لايعرفه ابن معين فهوليس بحديث }یعنی إمامُ الجرح والتعديل يحي ابن مُعین غالی حنفی کا مرتبہ ومقام اتنا بلند ہے اور حدیث کے میدان اتنا کامل وتبحر وعبور رکهتے ہیں کہ کوئ حدیث اگر يحي بن مُعين حنفی نہ پہچانے تو وه حدیث ہی نہیں ہے ، اور یہ قول بهی کسی عام مُحدث کا نہیں بلکہ امام المسلمین حضرت امام محمد بن حسن الشیبانی حنفی کے شاگرد امام المسلمین احمد بن حنبل کا ہے ، حافظ ذهبی رحمہ الله اپنی کتاب { سير أعلام النبلاء (11|88) } میں فرما تے ہیں کہ « كان أبو زكريا
رحمه الله ( ابن معين ) حنفياً في الفروع.
یعنی إمامُ الجرح والتعديل ابو زكريا يحيى بن معين رحمه الله فروعی مسائل میں حنفی ( مُقلد ) تهے ۰ حافظ ذهبی رحمہ الله کے الفاظ کو غور سے پڑهیں
” حَـنـفِـيـاً فـِي الـفـُرُوع ” یہ حنفي المسلك اور بقول حافظ ذهبی غالی اور پکا حنفی مُقلد إمامُ الجرح والتعديل ہے ، اور بخاري ، مسلم ، ترمذي ، أبوداود ، نسائ ، ابن ماجة کا راوی ہے ، اس امام عالی شان کا تفصیلی ترجمہ وسیرت تو تمام کتب رجال وثقات میں مُحدثین نے بالتفصیل کیا ہے ، مثلا حافظ ابن حجر رحمہ الله نے اپنی کتاب { تهذيب التهذيب } میں اور خطیب بغدادی رحمہ الله نے {تاريخ بغداد}میں اورحافظ ذهبی رحمہ الله نے { تذكرة الحفاظ وسیر أعلام النبلاء } میں وغیرهم ، چند اقوال إمامُ الجرح والتعديل ابو زكريا يحيى بن معين حنفي رحمه الله کے بارے مزید مُلاحظہ کریں ،
حافظ ذهبی رحمہ الله فرماتے ہیں ،

الحافظ إمام المحدثين فضائله كثيرة ،
حافظ أبوبکرالخطيب بغدادی فرماتے ہیں، كان إماما ربانيا، عالما، حافظا، ثبتا، متقنا” على ابن المدينى فرماتے ہیں ، ما أعلم أحدا كتب ما كتب يحيى بن معين ،
قال على ابن المدينى : انتهى العلم بالبصرة إلى يحيى بن أبى كثير ، و قتادة و علم الكوفة إلى أبى إسحاق ، و الأعمش و انتهى علم الحجاز إلى ابن شهاب ، و عمرو بن دينار و صار علم هؤلاء الستة إلى اثني عشر رجلا منهم بالبصرة : سعيد بن أبى عروبة ، و شعبة ، و معمر ، و حماد بن سلمة ، و أبو عوانة . و من أهل الكوفة : سفيان الثوري ، و سفيان بن عيينة و من أهل الحجاز : إلى مالك بن أنس و من أهل الشام : إلى الأوزاعى . فانتهى علم هؤلاء إلى محمد بن إسحاق و هشيم ، و يحيى بن سعيد ، و ابن أبى زائدة ، و وكيع ، و ابن المبارك و هو أوسع علما ، و ابن آدم .
و صار علم هؤلاء إلى يحيى بن معين “
وقال عمرو الناقد: ما كان فى اصحابنا أعلم بالاسناد من يحيى بن معين. ما قدر أحد يقلب عليه اسنادا قط. الخ

اسی طرح ” جرح وتعدیل ” کے ایک دوسرے جلیل القدر امام إمام المحدثين وشيخ الجرح والتعديل يحيى بن سعيد القطان البصري بهی حنفی تهے امام اعظم کے اقوال پرفتوی دیتے تهے

{ يأخذ بأكثر أقوال أبي حنيفة } و يختار قوله (أي قول أبي حنيفة) من أقوالهم ، }حافظ ذهبی رحمہ الله { تذكرة الحفاظ }میں فرماتے ہیں
{ ويُـفـتـي بـقول أبـي حـنـيـفــة.وكـان يُـفـتي بـرأي أبـي حـنـيـفــة } یعنی إمام المحدثين وشيخ الجرح والتعديل يحيى بن سعيد القطان البصري امام اعظم أبـي حـنـيـفــة کے قول ورائے کے مطابق فتوی دیتے تهے ۰
{تذكرة الحفاظ” للحافظ الذهبي (1|307): :}
حافظ ذهبی رحمہ الله { سير أعلام النبلاء } میں ان کا تذکره اس طرح کرتے ہیں
يحيى القطان ع يحيى بن سعيد بن فروخ الإمام الكبير أمير المؤمنين في الحديث أبو سعيد التميمي مولاهم البصري الأحول القطان الحافظ الخ

** إن أريدُ إلا الإصْــلاحَ مـَا استطعتُ وَمَا توفـِيـقـي إلابالله **

جب امام ابوحنیفہ نہیں تهے تو حنفی مقلد کہاں تهے ؟

وسوسه = جب امام ابوحنیفہ نہیں تهے تو حنفی مقلد کہاں تهے ؟
چاروں مذاهب کے پیروکار اپنے اماموں پرجاکر دم توڑتے هیں ۰
جواب = اس وسوسہ کا الزامی جواب تو یہ هے کہ جب ائمہ حدیث امام بخاری ،امام مسلم ، امام ترمذی ، امام ابوداود ، امام نسائ ، امام ابن ماجہ وغیرهم نہیں تهے اور نہ ان کی کتابیں تهیں ، تو اس وقت اهل اسلام حدیث کی کن کتابوں پر عمل کرتے تهے ؟؟ اور آج کل کے نام نہاد اهل حدیث کہاں تهے ؟؟
کیونکہ فرقہ نام نہاد اهل حدیث ( 1888 ء ) میں معرض وجود میں آیا ، اور اگرچہ بعض نام نہاد اهل حدیث نے اپنا رشتہ ناطہ حقیقی ( اهل الحدیث ) یعنی محدثین کرام کے ساتهہ جوڑنے کی ناکام کوشش کی هے ، محدثین کرام اور ائمہ اسلام کی کتب میں جہاں کہیں بهی ” اهل الحدیث ” کا لفظ دیکها تو اپنے اوپر چسپاں کردیا ، ان جهوٹے دعاوی سے ایک جاهل ناواقف شخص کو تو خوش کیا جاسکتا هے ، لیکن اصحاب علم ونظر کے سامنے ان پرفریب دعاوی کی کوئ حیثیت نہیں هے ،
لہذا فرقہ نام نہاد اهل حدیث کا تعلق ( اهل الحدیث ) یعنی حقیقی ائمہ حدیث اورمحدثین کرام کے ساتهہ ذره برابر بهی نہیں هے ،
اور اگر حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ، اپنے ائمہ پرجاکردم توڑتے هیں تویہ کوئ نقص وعیب کی بات نہیں هے کیونکہ یہ سب ائمہ کرام ائمہ حق وهُدی هیں ،
خیرالقرون کی شخصیات هیں ، جمیع امت ان ائمہ کرام کی امامت وصداقت وجلالت وثقاهت پرمتفق هے ، اور بالخصوص امام اعظم ابوحنیفہ بالاتفاق تابعیت کے عظیم شرف سے متصف هیں ، صحابہ کرام کے شاگرد هیں ، اور بقول امام سیوطی ودیگرائمہ کہ امام اعظم ابوحنیفہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی پیشن گوئ کا مصداق هیں ، اورالحمد لله دین میں هماری سند دو واسطے سے
حضورصلی الله علیہ وسلم تک پہنچتی هے ، کیونکہ امام اعظم ابوحنیفہ تابعی هیں اور تابعی صحابہ کا شاگرد هوتا هے اور صحابہ حضورصلی الله علیہ وسلم کے براه راست بلا واسطہ شاگرد هیں ، الحمد لله همیں اس نسبت اور سند پرفخر هے ، لیکن دوسری طرف فرقہ نام نہاد اهل حدیث جو کہ بالاتفاق هندوستان میں انگریزی دور میں پیدا کی گئ ، پوری تاریخ اسلام میں کسی بهی جگہ فرقہ نام نہاد اهل حدیث کا تذکره کہیں نہیں ملتا ، آپ تاریخ اسلام یا تاریخ فِرق پر کوئ بهی کتاب اٹهالیں کہیں بهی ان کا نام ونشان تک نہیں ملتا ، ان کا سلسلہ انگریزی دور سے چلتا هے حتی کہ صرف هندوستان کی تاریخ پڑهہ لیں کہ سینکڑوں سال تک زمام اقتدار مسلمانوں کے هاتهہ میں رها مثلا مسلمان حکمرانوں میں مغل ، غوری ، تغلق ، لودهی ، خلجی وغیره ایک طویل زمانہ تک هندوستان پرحکمرانی کرتے رهے لیکن ان سب ادوار میں فرقہ نام نہاد اهل حدیث بالکل نظرنہیں آتا ، اور جو حضرات اس فرقہ میں حدیث کی سند بهی رکهتے هیں تو وه بهی میاں نذیرحسین دهلوی سے آگے صرف اورصرف فرقہ نام نہاد اهل حدیث اورغیرمقلدین کے واسطہ سے اصحاب صحاح ستہ تک نہیں پہنچتا ،
بلکہ میاں نذیرحسین دهلوی کے بعد امام بخاری امام مسلم وغیره تک ان کا سلسلہ سند حنفی وشافعی مقلدین کے واسطہ سے پہنچتا هے ،
اب همارا سوال یہ هے کہ رات دن یہ لوگ یہ تکرار کرتے رهتے هیں کہ تقلید شرک وجهالت هے اور مقلد مشرک وجاهل هوتا هے ، اگرتم اپنے اس قول میں سچے هو تو امام بخاری یا کسی بهی امام حدیث تک اپنی ایک ضعیف سند بهی ایسی دکها دو جس میں اول تا آخر سب کے غیرمقلد اور تمہاری طرح نظریات کے حامل افراد شامل هوں ؟؟
قیامت تک یہ لوگ ایسی سند نہیں دکها سکتے ، بس عوام الناس کودهوکہ دینے کے لیئے مختلف قسم کے حیلے بہانے تراشے هوئے هیں ،
مشہور غیرمقلد عالم مولانا ابراهیم میر سیالکوٹی نے اپنی کتاب ( تاریخ اهل حدیث ) حصہ سوم پریہ عنوان قائم کیا هے
هندوستان میں علم وعمل بالحدیث
اور اس کے تحت یہ نام ذکرکیئے هیں
1 = شيخ رضي الدين لاهوري
2 = علامه مُتقي جونبوري
3 = علامه طاهر گجراتي
4 = شيخ عبدالحق محدث دهلوي
5 = شيخ احمد سرهندي
6 = شيخ نورالدين
7 = سيد مبارك بلگرامي
8 = شيخ نورالدين احمد آبادي
9 = ميرعبدالجليل بلگرامي
10 = حاجي محمد افضل سيالكو ٹي
11 = شيخ مرزا مظهر جان جاناں
12 = شيخ الشاه ولي الله
13 = شيخ الشاه عبدالعزيز
14 = شيخ الشاه رفيع الدين
15 = شيخ الشاه عبدالقادر
16 = شيخ الشاه اسماعيل الشهيد
17 = شيخ الشاه محمد اسحق
( رحـمهم الله تـعـالى اجمعين )
( ص 387 تا 424 ، ملخصا )
( ذالك فضل الله يوتيه من يشاء )
الحمدلله یہ سب کے سب حضرات حنفی المسلک تهے جن کی بدولت بقول مولانا ابراهیم میر سیالکوٹی هندوستان میں حدیث کا علم اور عمل پهیلا اور انهی حضرات محدثین کی اتباع سے لوگوں نے حدیث وسنت کا علم حاصل کیا ،
جیسا کہ میں نے اوپرعرض کیا کہ یہ لوگ عوام کے سامنے تو رات دن یہ راگ الاپتے رهتے هیں کہ مقلد مشرک وجاهل هوتا هے لیکن حقیقت میں قیامت تک اس اصول و موقف کو اپنا نہیں سکتے کیونکہ دنیا میں کوئ ایسی حدیث کی سند ان کو نہیں مل سکتی جس میں سب کےسب ان کی طرح غیرمقلد هوں ، بلکہ تمام اسناد اصحاب صحاح ستہ وغیرهم ائمہ تک مقلدین علماء کے واسطہ سے پہنچتی هیں ، اور بقول ان کے مقلد مشرک وجاهل هوتا هے تو حدیث جو همارا دین هے ، یہ لوگ مشرک وجاهل لوگوں کے واسطوں سے لیتے هیں ، ( معاذالله )
الله تعالی ان کو صحیح سمجهہ دے ۰

وجوب تقلید ائمہ مجتهدین اورتقلید کاعام فہم مفہوم

کسی بهی جاهل وعامی شخص کوجب ایک مسئلہ درپیش آتا هے اوراس کواس کاحکم معلوم نہیں هوتا کہ یہ جائزهے یا ناجائز ؟ ( جیسا کہ ایک عامی شخص کی تمام دینی مسائل میں یہی حالت هوتی هے ) تولازمی طورپراس کوکسی عالم دین کی طرف رجوع کرنا پڑے گا تاکہ اس سے صحیح مسئلہ وحکم معلوم کرسکے ، اور رجوع کرنے سے پہلے یہ شخص ضرور سوچے گا کہ میں ایسے عالم سے یہ مسئلہ دریافت کروں جوکہ علوم شریعت میں کامل وماهرهو ،
اورمتقی وپرهیزگارونیک صالح وباعمل هو ، کیونکہ عالم میں اگرعلم کامل نہیں توجاهل سے کیا جواب بن سکے گا اورایسا هوگا کہ ایک جاهل شخص جاهل سے مسئلہ دریافت کرتا هے توظاهرهے اس کا نتیجہ سوائے خرابی ونقصان کے اورکیا هوگا ، اسی طرح اگروه عالم باعمل ومتقی ومتصف بصفات حمیده نہیں هے توپهربهی کسی وجہ سے غلطی کا احتمال هے ، اورجب علوم شریعت میں کامل وماهر ومتقی وصالح وباعمل عالم مل جائے اوراس سے کوئ شرعی مسئلہ دریافت کرکے اس پرعمل کرے تواسی کا نام “” تـقـلـیـد “” هے ،
اورایک عالم کامل وماهر پراعتقاد پختہ هوجائے اوراس سے مسئلہ دریافت کرے تو تواسی کا نام “” تـقـلـیـد شـخـصـی “” هے ، اوراگرمتعد د کاملین وماهرین علماء سے پوچهتا هے تو یہ “” تـقـلـیـد غیرشـخـصـی “” هے ،
اورناواقف وعامی شخص کا اهل علم کی رجوع اوران سے مسئلہ دریافت کرکے عمل کرنے کا حکم قرآن وحدیث کی نصوص میں مذکور هے

قال الله تعالى :: فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون :: سورة الأنبياء
امام العلامہ الشاطبي رحمه الله فرماتے هیں کہ

سائل کے لیئے یہ صحیح (جائز) نہیں هے کہ وه اس آدمی سے سوال کرے جس کا جواب شریعت میں معتبرنہیں هے (جیسا کہ فی زمانہ میں بعض لوگوں نے ڈاکٹر، پروفیسر وغیره جاهل لوگوں کوشیخ کے نام سے مشہورکردیا )
کیونکہ یہ معاملہ کو نا اهل کے سپرد کرنا هے ، اوراس طرزعمل کے غلط هونے پراجماع هے ، بلکہ واقعہ اورحقیقت میں بهی یہ ممکن نہیں هے ، کیونکہ سائل نا اهل آدمی کوکہتا هے جب وه اس سے سوال کرتا هے کہ تومجهے خبردے اس مسئلہ کے بارے میں جوتونہیں جانتا اورمیں اپنا معاملہ تیرے سپردکرتاهوں اس مسئلہ میں جس میں هم برابرکے جاهل هیں ، اوریقینا اس قسم کا شخص عُقلاء کے زُمره میں داخل نہیں هوسکتا ۰
( العلامہ الشاطبي رحمه الله نے بڑی خوبصورت بات لکهی ، آج کل ائمہ مجتهدین کی اتباع وتقلید کے منکرلوگوں کا یہی حال هے )

قال الشاطبي رحمه الله : (ذلك أن السائل لا يصح أن يسأل من لا يعتبر في الشريعة جوابه، لأنه إسناد الأمر إلى غير أهله، والإجماع على عدم صحة مثل هذا، بل لا يمكن في الواقع؛ لأن السائل يقول لمن ليس بأهل لما سئل عنه: أخبرني عما لا تدري، وأنا أسند أمري لك فيما نحن بالجهل به على سواء، ومثل هذا لا يدخل في زمرة العقلاء) الموافقات 4/262.
علامہ بیضاوی رحمه الله فرماتے هیں کہ
وفي الآية دلالة على وجوب المُراجعة إلى العلماء فيما لايعلم ٠

اس آیت میں یہ دلالت هے کہ جن مسائل واحکام کاعلم نہ هو توعلماء کرام کی طرف رجوع کرنا واجب هے ۰
(کیا ائمہ اربعہ کے علماء بلکہ سیدالعلماء هونے میں کسی کوکوئ شک هوسکتا هے ؟ جواهل اسلام دین کےمسائل واحکام سمجهنے کے لیئے ائمہ اربعہ کی طرف رجوع کرتے هیں ، کیا ان کا یہ طرزعمل اس آیت مبارکہ عین مطابق نہیں هے ؟ )
لوگوں کی فلاح ونجات علماء کے وجود میں منحصر هے ، اورجب علماء نہیں رهیں گے تولوگ جاهل لوگوں کو اپنے سردار (وشیخ وامام ) بنالیں گے ، پس ان سے سوال کیا جائے گا (شیخ صاحب میرا یہ سوال هے وه سوال هے الخ ) پس وه بغیرعلم فتوی دیں گے خود بهی گمراه اور لوگوں کوبهی گمراه کریں گے ۰

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ء قال: سمعت رسول الله ء صلى الله عليه وسلم ء يقول: (إن الله لا يقبض العلم انتزاعًا ينزعه من العلماء ولكن يقبض العلم بقبض العلماء حتى إذا لم يُبْق عالما، اتخذ الناس رؤوسًا جهالاً فسئلوا فأفتوا بغير علم، فضلوا وأضلوا) رواه البخاري.
علماء شریعت وائمہ مجتهدین کی اطاعت واجب هے
قال تعالى : يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولو الأمر منكم سورة النساء الآية 59.

ابن عباس رضي الله عنه فرماتے هیں کہ یعنی أهل الفقه والدين وأهل الله جو لوگوں کو ان کے دین کے معانی ( مسائل واحکام ) سکهاتے هیں ، اور ان کو امربالمعروف ونہی عن المنکرکرتے هیں ، پس الله تعالی نے ان (أهل الفقه والدين وأهل الله ) کی اطاعت کوبندوں پرواجب کردیا هے ۰

قال ابن عباس رضي الله عنه : (يعني أهل الفقه والدين وأهل الله الذين يعلمون الناس معاني دينهم، ويأمرونهم بالمعروف وينهونهم عن المنكر فأوجب الله طاعتهم على عباده) رواه الطبري في تفسيره 5/941 ، ويقول الإمام بن كثير عند تفسير الآية: (والظاهر والله أعلم أنها عامة في كل أولي الأمر من العلماء والأمراء) ابن كثير 1/815.
مسألة: مفسرشهیرامام قُرطبی رحمہ الله فرماتے هیں کہ

عوام پرعلماء کی تقلید واجب هونے پر علماء کا کوئ اختلاف نہیں هے ، اورالله تعالی کے فرمان ” فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون ” میں یہی علماء هی مراد هیں ، علماء کا اس بات پراجماع هے کہ نابینا آدمی پرجب قبلہ کی سمت مشتبہ هوجائے تواس کے لیئے ایک ثقہ آدمی کی تقلید ضروری هے ،( تاکہ وه اس کوقبلہ کی صحیح سمت بتلائے ) اسی طرح جس کے پاس دین پرچلنے کے لیئے علم نہیں هے (یعنی جاهل هے ) تواس کے لیئے عالم (کامل وماهر) تقلید ضروری هے ، اسی طرح علماء کا اس بات پربهی اتفاق هے کہ عام لوگوں کے لیئے یہ جائزنہیں کہ وه فتوی دیں ۰

مسألة: لم يختلف العلماء أن العامة عليها تقليد علمائها، وأنهم المراد بقول الله عز وجل: “فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون” أجمعوا على أن الأعمى لا بدله من تقليد غيره ممن يثق بميزة بالقبلة إذا أشكلت عليه؛ فكذلك من لا علم له ولا بصر بمعنى ما يدين به لا بد له من تقليد عالمه، وكذلك لم يختلف العلماء أن العامة لا يجوز لها الفتيا؛ لجهلها بالمعاني التي منها يجوز التحليل والتحريم.
( تفسير القرطبي ، سورة الأنبياء )
{ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ }
قرآن مجید میں یہ قاعدة واصول وحکم دو مقامات پرذکرهوا هے
1 = سورة النحل، يقول تعالى: {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (43) بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ} [النحل: 43، 44].
2 = سورة الأنبياء، يقول سبحانه وتعالى: { وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} [الأنبياء: 7].

چند فوائد اس آیت مبارکہ کی روشنی میں
1 = اهل العلم کی مدح وتعریف وعظمت وعلومرتبہ ۰
2 = جاهل وناواقف شخص کے لیئے اهل العلم کی طرف رجوع لازم هے ۰
3 = اسی طرح سوال واستفسارأهل الذكر ( قرآن وسنت کے ماهروکامل ) علماء سے هوگا نہ کہ جاهل شخص سے ۰
4 = اس میں واضح دلیل هے کہ تمام لوگوں پراجتهاد واجب نہیں هے بلکہ کچهہ مجتهد هوں گے صاحب اجتهاد واستنباط هوں گے باقی لوگ ان سے پوچهہ کراوران کی پیروی وتقلید میں قرآن وحدیث پرعمل کریں گے ۰
5 = اور أهل الذكر یعنی علماء سے سوال کا قرآنی حکم واضح وروشن دلیل هے کہ لوگ ان سے سوال کریں گے ان کی تقلید کریں گے لہذا ان عوام لوگوں کا فریضہ سوال هوگا نہ کہ اجتهاد ، یہ توشریعت کا اورقرآن کا واضح فیصلہ هوا ، باقی عقل بهی اس کے موافق هے کیونکہ سب لوگوں كا مجتهد بن جانا خارج ازامکان هے ۰
6 = اور أهل الذكر ( قرآن وسنت کے ماهروکامل علماء ) هیں اورجولوگ علوم قرآن وسنت تودرکنار بلکہ عربی عبارت تک نہ پڑهہ سکتے هو ان سے کوئ سوال واستفسارجائزنہیں هے(جیسا کہ آج کل کے فرقہ جدید اهل حدیث میں شامل نام نہاد شیوخ کا حال هے ) ۰

یہ حقیقت بهی ذهن میں رهے کہ سائل ( قرآن وسنت کے ماهروکامل ) عالم وامام مجتهد سے کسی بهی مسئلہ ومعاملہ میں الله ورسول کا حکم دریافت کرتا هے ، عالم وامام سے اس کی اپنی خواہش ومرضی دریافت نہیں کرتا ،
لہذا دلائل بالا سے عوام کے لیئے تقلید کی ضرورت ثابت هوگئ ، اوریاد رهے کہ عوام سے مراد هروه شخص هے جواجتهاد سے عاجزوقاصر هے ،
سوال = اگرعالم سے مسئلہ کے دلائل بهی پوچهہ لے تواچها هے تاکہ تقلید سے نکل جائے یعنی پهرتقلید کا ارتکاب لازم نہیں آئے ۰
جواب = پہلی بات تویہ هے کہ کیا مسئلہ کے ساتهہ دلیل مانگنا بهی ضروری هے ؟؟ جولوگ ضروری سمجهیں توپهران پرلازم هے کہ طلب دلیل کی فرضیت کوقرآن وحدیث سے ثابت کریں اوریہ کہ جاهل وعامی شخص کا عالم وامام سے بغیرطلب دلیل کے مسئلہ پوچهنا حرام هے ؟؟
دوسری بات یہ هے کہ اگرجاهل وعامی شخص دلیل پوچهہ بهی لے ، توبهی اس کے لیئے عالم کے قول پراعتماد کے بغیرچاره نہیں هے ، حتی کہ دلیل کے دلیل بنتے تک جاهل وعامی کو پهربهی تقریبا چهہ امور میں عالم کی تقلید کرنا هوگی۰
1 = یہ آیت یا حدیث جوعالم نے پڑهی واقعی آیت یا حدیث هے ، خود ایک جاهل عامی شخص یہ بهی نہیں جان سکتا ۰
2 = پهر اس آیت یا حدیث کے ترجمہ اورمطلب میں بهی عالم کی تقلید کرنا هوگی ، کیونکہ جہالت کی وجہ سے ایک عامی شخص صحیح وغلط ترجمہ کی تمیزبهی نہیں کرسکتا ۰
3 = یہ حدیث یا آیت منسوخ تونہیں
4 = یہ کسی دوسری دلیل سے مُعارض تونہیں هے
5 = یہ حدیث صحیح یا ضعیف یا موضوع تونہیں هے
6 = قرآن وحدیث کے پورے ذخیرے میں اس دلیل سے زیاده راجح یا قوی دلیل کوئ موجود نہیں هے وغیره ذالک
ایک مسئلہ میں تقلید سے بهاگے توچهہ مقامات پرتقلید کرنا پڑی ، بارش سے بهاگے پرنالہ کے نیچے کهڑے هوگئے ،
معلوم هوا جولوگ عوام الناس کومختلف وساوس اورحیلوں بہانوں سے ائمہ مجتهدین کی تقلید سے منع کرتے هیں اورتقلید کوشرک وبدعت وغیره مذموم الفاظ سے یاد کرتے هیں ، یہ لوگ درحقیقت عوام الناس کوائمہ مجتهدین وسلف صالحین کی تقلید سے نکال کر اپنی تقلید عوام سے کرواتے هیں ، آج جتنے عوام الناس فرقہ جدید اهل حدیث میں شامل هیں سب کا یہی حال هے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ الله کی تقلید سے نکل کر جُہلاء کی اندهی تقلید کرتے چلے جارهے هیں ، لیکن بوجہ جہالت کے یہ بے چارے نہیں سمجهتے ،
خوب یاد رکهیں عامی وجاهل شخص کو تقلید کے بغیرکوئ چاره نہیں هے فرق صرف اتنا هے کہ تمام مسلمانان عالم بمطابق حکم قرآن حقیقی أهل الذكر ( یعنی ائمہ اربعہ ) کی تقلید کرتے هیں ، اور ایک شرذمہ قلیلہ (مختصر جماعت ) حقیقی أهل الذكر ( یعنی ائمہ اربعہ ) کو چهوڑ کر چند جُہلاء کی تقلید کرتے هیں۰

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *